نواز شریف واپس آتے ہیں تو ان کے ساتھ کیسا سلوک ہو گا؟ شہزاد اکبر بول پڑے
کرنٹ ٹریڈ نیوز کے مطابق احتساب و داخلہ امور سے متعلق معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف کی صحت اب بہتر ہے ، اگر وہ واپس آئے تو جیل میں موجود دیگر قیدیوں کے ساتھ بھی سلوک کریں گے۔
ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر آنے والی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہوگئی ہے اگر ایسا ہے تو انہیں واپس آکر جیل میں باقی سزا کاٹنی چاہیے۔
شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیماری ان کی عمر اور لائف اسٹائل کے مطابق ہے، اگر وہ واپس آتے ہیں تو ان سے جیل میں باقی قیدیوں جیسا سلوک ہوگا اور ان سے امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جائے گا۔ شہباز شریف کیس میں کچھ اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں، شہباز شریف پر بہت سخت الزامات ہیں، انہیں اور سلمان شہباز کو بہرحال ان باتوں کا جواب دینا ہوگا۔
واضح رہے کہ نوازشریف کی لندن میں شہبازشریف، بیٹوں اور بھتیجوں کے ہمراہ تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں سابق وزیراعظم ہشاش بشاش انداز میں ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کی میز پر موجود نظر آ رہے ہیں ،اس حوالے سے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ تصویر دیکھ کر ڈاکٹر عدنان کو فون کیا، ان سے پوچھا نوازشریف کا گھومنا علاج کا حصہ ہے، حکومت کو علاج سے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔
واز شریف کی سوشل میڈیا پر جو تصویر وائرل ہوئی اس میں نوازشریف کے صاحبزادوں حسن ،حسین نواز سمیت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار مہنگے ترین ریستوران میں ناشتہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
خیال رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاج کے سلسلہ میں 20 نومبر سے لندن میں موجود ہیں، اسپتال ذرائع کے مطابق نوازشریف کے دل کوخون پہنچانے والی شریان سکڑ گئی ہے ، خون کی روانی کو برقراررکھنےکیلئے’’کورنری انٹروینشن‘‘ کی ضرورت ہے اور اگر علاج کامیاب نہ ہوا تو مسلم لیگ ن کے تاحیات صدر کا بائی پاس کیا جائے گا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں علاج جاری ہے ان کی طبیعت بدستور خراب ہے البتہ ترجمان مسلم لیگ ن نے پلیٹ لیٹس کے اتار چڑھاؤ بتانا بند کر دیا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن کے مقامی کلینگ میں طبی معائنہ کیا گیا نواز شریف کی پی ای ٹی سکین رپورٹ کا نتیجہ رواں ہفتے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف طبی معائنے کے لئے اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے تو ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان، صاحبزادے حسین نواز، لیگی عہدیدار ناصر بٹ اور دیگر معاونین بھی ہمراہ تھے۔
اس موقع پر نواز شریف کے بیٹے حسین نوازکا کہنا تھا کہ کہ نواز شریف کی طبعیت بدستور ناساز ہے اور ان کی رپورٹس میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے
سابق وزیراعظم نوازشریف کےبیرون ملک قیام کی مدت میں اضافےکے معاملے پر پنجاب حکومت نے 4رکنی کمیٹی تشکیل دے دی،پنجاب حکومت کی کمیٹی میں صوبائی وزیر قانون اور سیکریٹری قانون شامل ہیں، 4 رکنی کمیٹی میں چیف سیکریٹری پنجاب اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بھی شامل ہیں، کمیٹی نواز شریف کے بیرون ملک قیام میں اضافے کے حوالہ سے سفارشات تیار کرے گی.
قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف اور اہلخانہ نے ضمانت کی مدت میں توسیع کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب کو درخواست دے دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں محکمہ داخلہ پنجاب سے رابطہ کیا گیا۔ عدالت نے میاں نواز شریف کو انڈر سیکشن 401 (2) کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کے تحت مزید ریلیف کے لئے حکومت پنجاب کو درخواست دینے کی ہدایت کی تھی۔عدالت عالیہ اسلام آباد کی جانب سے قرار دیا گیا تھا کہ جب تک حکومت پنجاب درخواست پر فیصلہ نہیں کرے گی، نواز شریف ضمانت پر ہی تصور کئے جائیں گے۔
نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب درخواست کے ساتھ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس بھی درخواست کے ساتھ لگائی گئی ہیں،درخواست نوازشریف کے اہلخانہ اور وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج جاری ہے، نوازشریف بیماری کے باعث وطن واپس نہیں آسکتے،
العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف 8 ہفتوں کے لیے دی گئی ضمانت ختم ہو چکی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کیلئے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تھی،عدالت نے ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سےرجوع کرنےکاحکم دیاتھا
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظورکی تھی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کیلئے معطل کردی تھی،،عدالت نے 20لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا تھا،عدالت نے کہا تھا کہ آٹھ ہفتے پورے ہونے پر مزید ضمانت چاہئے ہو تو پنجاب حکومت سے رجوع کریں،
خیال رہے کہ طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کے بعد نواز شریف کو علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے، تاہم ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ انھیں زیادہ بہتر علاج کے لیے امریکا منتقل کیا جائے گا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر حکومت نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی صحت سے متعلق تذکرہ ہوا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو سپریم کورٹ جانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ضمانت کی مدت ختم ہونے پر نواز شریف کو وطن واپسی یقینی بنانے کی درخواست دائر کی جائے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلے سنائے تھے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا تھا۔
نوازشریف کا طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، برطانوی ڈاکٹرزنے نوازشریف کا تفصیلی طبی معائنہ تجویز کیا ہے ،نوازشریف کے ٹیسٹ اورطبی معائنہ مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں،
شہبازشریف نے وکلا کومیڈیکل رپورٹس کی بنیاد پرکیس تیار کرنے کی ہدایت کر دی،میڈیکل رپورٹس پاکستانی حکام کو فراہم کی جائیں گی،میڈیکل رپورٹس کی کاپیزہائی کورٹ میں بھی جمع کرائی جائیں گی،نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کوبھی فراہم کی جائیں گی،نوازشریف کے مزید علاج کیلیےامریکہ لے جانے کی تجویز بھی زیرغور ہے،
سابق وزیراعظم نواز شریف بیماری کے باعث لندن منتقل ہو چکے ہیں جہان ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں ، نواز شریف چوھدری شوگر ملز کیس میں نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں علاج کے لئے سروسز ہسپتال، پھر گھر اور پھرلندن منتقل کر دیا گیا، نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کر دی، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے حکومت نے نہیں نکالا بلکہ ون ٹائم علاج کے لئے عدالتی حکم کے بعد اجازت دی.


No comments:
Post a Comment
Yahoo News, Today's News, Google News, Trend News and News of the World Now on a website called Current Trend News. if you have any information then contact me.