#CoronaVirus: چین میں چہرہ ڈھانپنے والے ماسک کی طلب اور رسد کی صورتحال کیا ہے؟
چین میں حکام نے کورونا وائرس کی وبا بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد دوسرے ممالک سے چہرے کو ڈھانپنے کے لیے ماسک مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس رپورٹ میں بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ درحقیقت چین کو کتنے ماسک درکار ہیں اور ماسک کی تیاری کہاں ہوتی ہے؟
چین کو کتنے ماسک کی ضرورت ہیں؟
اگرچہ شعبہ طب کے ماہرین ماسک کی افادیت سے اتنے مطمئن نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود عام لوگوں اور طبی عملے میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔
ابھی حتمی طور پر ماسک کی طلب کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ پورے چین میں یہ وبا پھیلی ہے لیکن ماسک کی طلب کا اندازہ لگانے کے لیے ہوبائی صوبے کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں جو سب سے زیادہ اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔
اس صوبے میں صرف میڈیکل سٹاف کے لیے پانچ لاکھ تک ماسک درکار ہیں۔ ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق اس ماسک کو باقاعدگی سے تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے یعنی طبی عملے کے لیے دن میں تقریباً چار مرتبہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر طبی عملے کو ایک دن میں 40 لاکھ تک ماسک درکار ہیں۔
فی الوقت کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے دیگر صوبوں کے طبی عملے کی صیحح تعداد کے بارے میں تفصیلات نہیں دی جا سکتی ہیں تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ وہاں بھی ماسک کا استعمال اتنے ہی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہو گا۔
اس کے علاوہ عام شہریوں میں بھی ماسک کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
- چین میں پبلک ٹرانسپورٹ میں کام کرنے والے عملے کے پانچ لاکھ ارکان کو ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
- یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بعض دکانداروں اور تاجروں نے اپنے گاہکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کی دکان میں ماسک پہن کر آئیں
یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ چین میں بیماریوں سے محفوظ رہنے یا اگر بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو ماسک پہننے کر گھر سے نکلنے کا رواج عام ہے۔
گو کہ یہ اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ چین کو کتنی تعداد میں ماسک درکار ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ماسک کی طلب پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور یہ اب مزید بڑھ جائے گی جب فروری کے وسط تک نئے سال کی چھٹیاں گزارنے کے بعد لوگ اپنے اپنے دفاتر کو واپس لوٹیں گے۔
کیا چین باہر سے ماسک منگوا سکتا ہے؟
چین نے 24 جنوری اور دو فروری کے دوان 22 کروڑ ماسک خریدے ہیں۔
فروری کے آغاز سے ہی حکام نے ادوایات اور طبی آلات پر سے درآمدی ڈیوٹیاں ختم کر دی ہیں۔
امریکی کمپنی ایم تھری ،جو معیاری ماسک بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ عالمی سطح پھر ماسک کی طلب پوری کرنے کے لیے اپنی پیداوار بڑھا رہے ہیں۔
برطانیہ میں قائم کیمبرج ماسک کمپنی، جو اعلی معیار کے ریسپیریٹر ماسک تیار کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ انھیں غیر معمولی آڈر ملے ہیں اور ان کی تمام پیداوار فروخت ہو چکی ہے۔
ملکوں نے جن میں تائیوان اور انڈیا شامل ہیں نے ماسک اور منھ پر باندھے جانے والے کپڑوں کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
تائیوان اپنے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔ تائیوان نے ماسک کی فروخت کی راشنگ شروع کر دی ہے۔
چین کے علاوہ کئی دوسرے ملکوں سے بھی ماسک کی قلت کا اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جہاں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا اور لوگوں خوف کے عالم میں ماسک خرید رہے ہیں۔
چار فروری تک امریکہ میں صرف 11 مریض سامنے آئے تھے لیکن بہت سے دکانداروں کا کہنا تھا کہ انھیں ماسک کی قلت کا سامنا ہے۔ جبکہ امریکہ میں حکام نے عوام سے کہا ہے انھیں ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔


No comments:
Post a Comment
Yahoo News, Today's News, Google News, Trend News and News of the World Now on a website called Current Trend News. if you have any information then contact me.