برازیل کی ارب پتی خاتون: لویزا تروجانو چھوٹی سی دکان سے ملک کی امیر ترین کاروباری خاتون کیسے بنیں؟
سنہ 1990 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں جب ملک میں افراطِ زر کی شرح آسمان کو چھو رہی تھی، ہر دوسرے روز کوئی نئی کرنسی متعارف کرائی جا رہی تھی اور اگلے ہی دن اسے ترک کیا جا رہا تھا، ایسے میں برازیل میں دکان چلانا بچوں کا کھیل نہیں تھا۔
یہ وہ مشکل معاشی حالات تھے جن کا سامنا اُس وقت چالیس سالہ لُویزا تروجانو کو تھا جب انھوں نے سنہ 1991 میں خاندانی کاروبار کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیا۔ ان کے خاندان کے پاس کئی دکانیں تھیں جہاں الیکٹرانکس اور گھر کے استعمال کی دیگر اشیاء فروخت کی جاتی تھیں۔
’میگزین لُویزا‘ نامی درمیانے درجے کا یہ کاروبار برازیل کے جنوبی صوبے ساؤ پالو میں تھا، لیکن لُویزا کا ارادہ تھا کہ اس کاروبار کو پورے ملک میں پھیلانا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے جو منصوبہ بنا رکھا تھا وہ خاصا انوکھا تھا۔
افراط زر کے ان دنوں میں، سنہ 1989 سے 1994 کے درمیانی عرصے میں حکومت چار مختلف کرنسیاں متعارف کر کے انھیں ترک بھی کر چکی تھی۔ ان حالات میں شہر شہر ایسے نئے سٹور کھولنا جن میں آپ تمام مصنوعات رکھیں، کسی کے لیے بھی خاصا پُرخطر کاروبار ہو سکتا تھا۔
اس کا حل لیوزا نے یہ نکالا کہ ایسی چھوٹی چھوٹی دکانیں کھولی جائیں جن میں کوئی چیز سٹاک نہ کی جائے۔ جب یہ دکانیں کھولی گئیں تو خریدار مصنوعات اٹھانے کی بجائے وہاں ایک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ جاتے اور سکرین پر اپنی پسند کی مصنوعات کا انتخاب کر لیتے۔ یہ کرنے کے بعد خریدار کمپیوٹر پر ہی آرڈر بک کرا دیتے اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے ڈپوؤں سے یہ چیز انھیں گھر پر پہنچا دی جاتی۔
یہ ایک لحاظ سے انٹرنیٹ پر خریداری کی ابتدا تھی، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت تک برازیل میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں تھی کیونکہ عام صارفین کو یہ سہولت 1997 میں ملنا شروع ہوئی۔
صرف کمپیوٹر سے لیس ان چھوٹی چھوٹی دکانوں کے طفیل نہ صرف ’میگزین لُویزا‘ کو کم قیمت اور کم وقت میں پھیلنے کا موقع ملا بلکہ تیزی سے بدلتی قیمتوں اور کرنسی میں تبدیلی کے ان دنوں میں ہر چیز پر نئی قیمت کے لیبل لگانے سے بھی کمپنی کی جان چھوٹ گئی۔ نئے لیبل پرنٹ کرنے کی بجائے کمپنی کو صرف اپنے کمپیوٹر سسٹم میں مصنوعات کی قیمتیں بدلنا پڑتی تھیں، جو کہ کوئی مشکل کام نہیں تھا۔
اب لُویزا 68 برس کی ہو گئی ہیں اور ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ ہم نے اس زمانے میں ورچوئل دکانداری متعارف کرا دی تھی۔ یوں ہم انٹرنیٹ کے لیے باقی لوگوں سے پہلے ہی تیار ہو گئے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے یہ بات یقینی بنانے کے لیے بہت محنت کی کہ اپنے عملے کو تفصیل سے بتائیں کہ کاروبار کیسے پھیلے گا، تاکہ عملہ خوش رہے، ان میں کام کا جذبہ قائم رہے اور وہ خریداروں کو اچھی سروس فراہم کریں۔
’ہم نے اپنی ٹیم کے اندر بہت کام کیا، ہم انھیں بتاتے کہ ہمارے اہداف کیا ہیں اور ہمیں کیوں عملے کے ہر فرد کی ضرورت ہے۔ یوں اس نئی تحریک میں عملے کا ہر فرد جو اہم کردار ادا کر رہا تھا، ہم اسے اس حوالے سے کھل کے بتاتے تھے۔‘
آج یہ کمپنی برازیل کے بڑے بڑے کاروباروں میں سے ایک ہے۔ چونکہ اب اس کی تقریباً آدھی سیل آن لائن ہوتی ہے، اس لیے کمپنی نے اپنی چھوٹی چھوٹی دکانیں بند کر کے بڑے سٹور کھول لیے ہیں جہاں کچھ مصنوعات موجود ہوتی ہیں جبکہ دیگر آپ کے گھر پہنچا دی جاتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے بعد بھی کمپنی اپنے عملے کی خوشی کا خیال رکھتی ہے اور میگزین لُویزا مسلسل ان کمپنیوں میں سرفہرست رہتی ہے جن کے لیے کام کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔
لُویزا بتاتی ہیں کہ ’ہم سنہ 2006 سے پہلے نمبر پر آ رہے ہیں۔ ان برسوں میں میرے لیے یہ بات سب سے زیادہ خوشی کا باعث رہی ہے۔‘
اگرچہ لُویزا کا ریٹائر ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم انھوں نے سنہ 2016 میں چیف ایگزیکٹِو کی ذمہ داریاں اپنے بیٹے کو سونپ دی تھیں اور خود کمپنی کی چیئر وومن بن گئیں۔
جب وہ کمپنی کے کاموں میں مصروف نہیں ہوتیں، تو لُویزا مختلف تقاریب میں جا کر کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند لوگوں کو گُر سکھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک اور تنظیم کی مدد بھی کرتی ہیں جس کا مقصد کاروبار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خواتین کی رہنمائی کرنا ہے۔ ’برازیلین وومن گروپ‘ نامی یہ تنظیم سنہ 2013 میں بنائی گئی تھی اور اب اس کے ارکان کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ساؤ پالو کے ایک معروف بزنس سکول سے منسلک، پروفیسر فرنینڈو بلانکو کہتے ہیں کہ لُویزا نہ صرف ’ کاروباری دنیا کی بڑی شخصیت ہیں بلکہ لوگوں میں ولولہ پیدا کر دینے والی مقررہ بھی۔ اس لیے یہ تصور کرنا کوئی مشکل نہیں کہ انھوں نے میگزین لُویزا کی ٹیم میں کامیابی کا جذبہ کیسے ابھارا ہو گا۔‘
نوے کی دہائی کے برازیل کو یاد کرتے ہوئے لُویزا کہتی ہیں کہ ان کے ملک کو ہمیشہ بحرانوں کا سامنا رہے گا تاہم کمپنیوں کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
’بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہمیشہ اچھے کی امید کرتی ہوں، لیکن سچ یہ ہے کہ میرا دماغ ہر وقت مسئلے کے حل پر لگا ہوتا ہے۔ شکایت کرنے سے کوئی مسئلہ ختم نہیں ہوتا، ہمیں مسئلے کے حل پر مرکوز رہنا چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ معاشی حالات کسی بھی قسم کے ہوں ’ وہ کمپنیاں جو کامیاب ہوتی ہیں، ان میں دو چیزیں مشترک ہوتی ہیں ایک اپنے صارفین کی بہتر خدمت اور اور دوسرا کاروبار میں جدّت۔



No comments:
Post a Comment
Yahoo News, Today's News, Google News, Trend News and News of the World Now on a website called Current Trend News. if you have any information then contact me.