پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج
پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا گیا ہے۔
اس مظاہرے میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں سمیت دیگر جماعتوں کے سے تعلق رکھنے والے افراد اور افغان شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور منظور پشتین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ منظور پشتین کے مطالبات انسانی بنیادوں پر ہیں اور ان کی گرفتاری بے بنیاد وجوہات پر عمل میں لائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ منظور پشتین کو پولیس نے 26 جنوری کی شب صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تہکال کے علاقے سے گرفتار کیا تھا۔
پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے تعلق رکھنے والے یوسف علی خان جو برطانیہ میں پی ٹی ایم کے آرگنائزر ہیں، بھی اس مظاہرے میں شریک تھے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ منظور پشتین کو بغیر کسی قصور کے گرفتار کیا گیا ہے اور اگر ان کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ویک ڈیز میں بھی پاکستانی ہائی کمشنر کے سامنے آ کر مظاہرہ کریں گے۔
’ہم کامن ویلتھ کے سامنے بھی جائیں گے لیکن پھر بھی منظور پشتین کو رہا نہ کیا گیا تو ہم برطانیہ کے پارلیمنٹ کے سامنے جائیں گے، ہم اقوام متحدہ کے سامنے جائیں گے، ہم منظور پشتین کی رہائی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں، ہمارے نوجوان چاہتے ہیں کہ یہاں دھرنا دیا جائے۔‘
برطانیہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آرگنائزر فلک نیاز خان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے منظور پشتین کی گرفتاری دنیا کے کسی بھی قانون میں ناجائز ہے۔
’ہمارا مطالبہ ہے کہ منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جو مطالبات ہیں ان کو فوری پورا کیا جائے۔‘
پاکستان سے تعلق رکھنے والی عائشہ صدیقہ نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنے آئی ہیں۔
’منظور پشتین سمیت گرفتار ہونے والے کئی افراد کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے آئی ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں ہم سب کا حصہ ہے اور کوئی ہمیں ہمارے حق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے نہیں روک سکتا۔‘
واضح رہے کہ 28 جنوری کو اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے والے درجنوں افراد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
ان میں قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد کارکن، عوامی ورکرز پارٹی کے کارکن اور چند طلبا شامل تھے جبکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔


No comments:
Post a Comment
Yahoo News, Today's News, Google News, Trend News and News of the World Now on a website called Current Trend News. if you have any information then contact me.