کشمیر گراؤنڈ رپورٹ: ڈپریشن اور دل و دماغ پر چھائی مایوسی کی چادر
ہسپتال میں چیک والے کشمیری لباس میں ایک 30 سالہ شخص خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے۔ اس نے سر پر اونی ٹوپی اور ہاتھوں دستانے بھی پہن رکھے ہیں اور اس کے ہاتھوں میں ڈپریشن کے علاج کی پرچی ہے جس پر اس کا نام لکھا ہوا ہے۔ تعارف کے بعد جب ان کا حال پوچھا تو انھوں نے آہستہ سے سر اٹھایا تو بڑی گہری آنکھیں اور غم میں ڈوبا ہوا اداس چہرہ نظر آيا۔
میں نے آہستہ سے ایک بار پھر صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ اس بار اس نے کہا: کیا بتاؤں؟ کہاں سے شروع کروں؟ چلیے آپ کو کل رات کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ابھی جو رات گزار کر ہسپتال آیا ہوں۔ دس بجے فوج ہمارے علاقے میں آئی اور محاصرہ کر لیا۔ صبح کی نماز تک تمام مردوں کو کھڑا رکھا۔ پھر وہی تفتیش، وہی تھپڑ۔ ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ دیکھو، میرا کیا حال ہو گیا ہے! میں ڈپریشن میں ہوں۔'
اچانک اسی وقت کچھ مریضوں نے ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے کیمپس کا مرکزی دروازہ کھولا، اندر آنے والی سرد ہوا کے جھونکے سے ہم دونوں لرز گئے۔ باہر برف پڑ رہی تھی۔
یہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے ایک گھنٹہ پر واقع پلوامہ ضلعے کا ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ ہم ہسپتال کے چھوٹے سے 'دماغی صحت مرکز' میں موجود ہیں۔ وادی میں جاری اس برفیلی سردی میں بھی پلوامہ کے اس چھوٹے سے ذہنی صحت مرکز میں کشمیری مریضوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔
صبح دس بجے سے شروع ہونے والے او پی ڈی میں نو بجے ہی تقریباً 50 پچاس سے زیادہ مریض قطار میں کھڑے ہیں۔
میں اور راشد اب بھی مرکزی دروازے کے اندر بنچ پر بیٹھے ہیں۔ اس نے بتایا: 'میں بجلی کا کام کرتا ہوں۔ میں پلوامہ شہر میں رہتا ہوں، لیکن میرے گاؤں کا نام وشبوک ہے۔ جب سے آرٹیکل 370 کو ہٹایا گيا ہے، میرا کام بہت کم ہو گیا ہے۔ یہاں رہنے والے سبھی لوگوں کا کام اور کاروبار ختم ہوا تو میرا کیونکر بچتا؟ پہلے دو ماہ تک تو کام مکمل طور پر بند رہا۔ میری تو عمر بھی کم ہے، مجھے تو ڈپریشن نہیں ہونی چاہیے تھی! لیکن اب ڈاکٹر کے پاس آیا ہوں کیونکہ میں ڈپریشن میں ہوں۔ سارا دن دل گھبراتا رہتا ہے۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور یاداشت بھی ختم ہونے لگی ہے۔'
پلوامہ ضلعی ہسپتال میں ماہر نفسیات ڈاکٹر ماجد شفیع کی او پی ڈی میں یہ ایک بہت مصروف اور یخبستہ صبح ہے۔ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم ہوئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ دریں اثنا جہاں وادی میں کئی ہفتوں تک فون بند رہے وہیں انٹرنیٹ خدمات آج تک معطل ہیں۔
جب تک ڈاکٹر ماجد مریضوں کو دیکھتے ہیں میں ان کے ساتھ گفتگو کا انتظار کرتی ہوں۔ شدید ذہنی تناؤ جیسے اداسی، افسردگی، خوفناک خواب آنا، نیند نہ آنا، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی)، پسینہ آنا، یاد داشت جانا اور خود کو الگ تھلگ اور تنہا محسوس کرنے جیسی کیفیات سے متاثر مریض ڈاکٹر ماجد کے سامنے اپنی شکایات کا پلندہ کھول رہے ہیں۔
ڈاکٹر ان کے مسائل کو ہمدردی اور صبر سے سن رہے ہیں۔ اسی دوران وہ افسردگی کے عالم میں رونے والی ایک کشمیری خاتون کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہیں اور تسلی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ماجد کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر ماجد کہتے ہیں کہ کشمیر سنہ 1989 سے ہی ذہنی صحت کی ہنگامی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اس دوران جب بھی یہاں صورتحال خراب ہوئی ہے جیسے 2008 ، 2010 اور 2016 کے مظاہرے یا اب آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد، اس طرح کے ہر بڑے اتار چڑھاؤ کے دوران تشدد اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
لوگوں کی نفسیات پر آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'ایک عام کشمیری نے اس طرح اچانک آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کو اپنی شناخت اور شہریت پر حملہ کے طور پر لیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پیر کے دن ہی اس کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس دن میرے پاس او پی ڈی تھی لیکن اچانک ٹریفک کے ساتھ ساتھ فون کی سہولیات بند ہونے کی وجہ سے لوگ ہسپتال نہیں پہنچ سکے۔ جو اسپتال میں تھے ان کے چہروں پر اداسی تھی۔ پانچ اگست کے بعد یہاں کے لوگ بہت دنوں تک مسکرا نہیں سکے۔ اس کے بعد میں نے جو سارے مریضوں کو ابتدائی طور پر دیکھا تھا انھوں نے ایسے سوالات اٹھائے جیسے 'آگے کیا ہوگا، ہمارا مستقبل کیا ہے؟' ہر ایک گہرے صدمے میں تھا۔'
اس کے بعد رفتہ رفتہ جب ٹریفک اور دیگر پابندیوں میں نرمی کی گئی اور مریضوں نے آنا شروع کیا تو ڈاکٹر ماجد کے اپنے او پی ڈی میں ہی آنے والے مریضوں کی تعداد میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہو گيا۔
انھوں نے کہا: 'پہلے جہاں 70 سے 100 مریض آتے تھے اب ان کی تعداد 200 ہو گئی ہے۔ یہ تقریباً 150 فیصد کا اضافہ ہے۔ ابتدائی طور پر اس ہسپتال میں ایک کوآپریٹو دکان کے علاوہ دوا کی تقریباً ساری دکانیں بھی آٹھ ہفتوں تک بند رہیں۔ اس کے بعد جب مریضوں نے آنا شروع کیا تو وہ مستقبل کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ان میں اضطراب یا افسردگی یا ڈپریشن سب سے زیادہ ہے۔'
ڈاکٹر ماجد نے بتایا کہ ان کے مریضوں میں سب سے زیادہ خوف 'اٹھائے جانے' کا ہے۔ 27 نومبر کو پارلیمان میں دیئے گئے ایک بیان میں وزیر مملکت برائے داخلہ امور کرشنا ریڈی نے اعتراف کیا کہ پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد حکومت نے کشمیر میں 'احتیاطی نظربندی' کے طور پر 5161 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ حکومت کے مطابق ان میں سے 609 افراد اب تک حراست میں ہیں۔
ڈاکٹر ماجد اس حالت کو 'مستقل ٹراما' قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 16-17 سال کے لڑکے میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں گھبراہٹ ہے، وہ سو نہیں پا رہے ہیں۔ انھیں ایک ہی چیز کا خوف ہے کہ انھیں پوچھ گچھ کے لیے اٹھایا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اٹھایا لیا جاتا ہے۔ جب یہ جذباتی زخم بار بار ملتے ہیں تو وہ ذہن پر گہرا نشان چھوڑ دیتے ہیں۔ لہذا کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پوسٹ ٹراما یا پی ٹی ایس ڈی صورتحال نہیں ہے بلکہ ایک مستقل صدمہ ہے۔
ذہنی پریشانیوں سے دوچار مریضوں کے لیے 'حفاظتی دائرے' کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 'الجھی ہوئی ذہنی حالت میں مریض دو قسم کے خطرے کا احساس کر سکتے ہیں۔ ایک 'اصلی خطرہ' ہے اور دوسرا 'خوف' ہے یعنی ان کے ذہن میں خوف کا سایہ ہے۔ '
انھوں نے کہا کہ جب امریکی فوجی عراق میں جنگ لڑنے گئے تو وہ وہاں طویل عرصے تک پر تشدد فضا میں رہے۔ لیکن جب بھی وہ اپنے ملک لوٹے تو انھیں احساس ہوا کہ وہ 'اپنے گھر میں' ہیں اور محفوظ ہیں۔
لیکن کشمیر کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں کوئی 'سیفٹی نیٹ' نہیں ہے جہاں لوگ یہ محسوس کرسکیں کہ وہ اب تشدد کے دائرے سے باہر ہیں۔ لہذا یہاں کے لوگ بار بار اپنے مستقبل کے متعلق خوفزدہ رہتے ہیں۔ یہاں لوگوں میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے متعلق اب تک کنفیوژن اور خوف ہے۔ لوگ مجھ سے باربار پوچھتے ہیں کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟'
'دراصل میرے بھائی نے اکتوبر 2017 میں گھر چھوڑ دیا۔ پھر اگلے مہینے ہمیں معلوم ہوا کہ وہ باغی ہوگیا ہے۔ وہ پندرہ ماہ تک عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ سرگرم تھا اور فروری 2019 میں اسے مارا گیا تھا۔ اس وقت سے مجھے بھی ہر ہفتے اپنے گاؤں کے قریب واقع آرمی کیمپ میں پوچھ گچھ کے لئے بلایا جانے لگا۔ میں جاتا ہوں، وہ سوال پوچھتے ہیں، میں جواب دیتا ہوں۔ عسکریت پسندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مقدمے بھی جاری ہیں۔ جبکہ کوئی بھی یہاں بندوق کی نوک پر کسی کے گھر میں داخل ہوسکتا ہے۔ میں بھی ہر مہینے سماعت کے لیے جاتا ہوں۔'
بھائی کے شدت پسند ہو جانے، مارے جانے اور پھر عدالت سے پولیس سٹیشن کے چکر نے شفق کی زندگی کا محور بدل دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'میں اپنے خوابوں میں بھی آرمی افسر کے سوالوں کا جواب دیتا رہتا ہوں۔ نیند نہیں آتی۔ جب آتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وہاں کوئی دھماکا ہوگا اور پورا گھر مجھ پر ٹوٹ کر آ گرے گا اور میں مر جاؤں گا۔'
دوپہر کے وقت بھی ایسا لگتا ہے کہ پلوامہ ڈھلتے سورج کی روشنی میں ڈوبا رہتا ہے۔ پلوامہ کے سرکاری ہسپتال سے دس کلومیٹر آگے اب ہم اس ضلع کے اریہل گاؤں میں موجود ہیں۔
خاموشی سے گرنے والی برف نے اس پورے گاؤں کو سفید چادروں سے ڈھک دیا ہے۔ شناخت ظاہر کیے جانے کے بعد ڈرتے ڈرتے وسیم شیخ ہمیں مرکزی سڑک سے ایک کلومیٹر دور اپنے گھر لے گئے۔ ان کے گھر جانے کا راستہ دو فٹ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔
گھر کی ملاقات میں 19 سالہ سلیم جالی دار کشمیری پردے کے پاس سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ سنہ 2016 میں سلیم دسویں کے امتحانات کے دوران پلوامہ میں ایک احتجاج میں پھنس گئے اور ان کی ایک آنکھ میں پیلٹ گن کی زد میں آ گئی۔
بغیر بینائی کے اپنی زندگی کے صدمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سلیم کہتے ہیں: 'میرے گاؤں میں مجھ جیسے اور بھی بہت سے لڑکے ہیں جنھیں پیلٹ گنز لگی ہیں۔ میرے اب تک آٹھ آپریشن ہوچکے ہیں، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ روشنی واپس آنے کی امید بہت ہی کم ہے۔ میں سارا دن افسردہ رہتا ہوں۔'
دو منٹ تک سر جھکائے بیٹھے سلیم نے اچانک کہا: 'مجھے بھی شوق تھا۔۔۔کچھ بننے کا۔۔۔ کرکٹ کھیلنے کا۔۔۔ جم جانے کا۔۔۔ کشتی کا۔۔۔ لیکن اب میری زندگی برباد ہوگئی ہے۔ والدین کب تک میرا خیال رکھیں گے؟ کون سی لڑکی مجھ سے شادی کر کے اپنی زندگی خراب کرنا چاہے گی؟ یہ میری کچھ کرنے کی عمر تھی اور میں نابینا بنا بیٹھا ہوں۔ سارا دن درد سے سر پھٹتا رہتا ہے۔ کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ نہ مجھے بھوک لگتی ہے، نہ پیاس ہے اور نہ ہی نیند ہے۔ بس دل گھبراتا رہتا ہے۔'
اگست سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد معروف برطانوی میڈیکل جریدے 'لانسیٹ' نے اپنے ایک ادارتی مضمون میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کی ذہنی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں کے عوام کئی دہائیوں سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ اقتصادی خوشحالی سے پہلے لوگوں کو پرانے ذہنی زخموں سے نجات چاہیے۔
میگزین کے مطابق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے سے مقامی لوگ تشدد اور علیحدگی پسندی کے ایک نئے چکر میں پھنس سکتے ہیں۔ اگرچہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس اداریے کو سختی سے مسترد کردیا تھا لیکن طبی دنیا میں کشمیریوں کی ذہنی صحت کے بارے میں یہ پہلا تبصرہ نہیں تھا۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے 'ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز' نے مئی سنہ 2016 میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ وادی میں مقیم 41 فیصد افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
ان اطلاعات کی اشاعت سے ایک دہائی قبل بھی وہاں کے حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ سنہ 2006 میں شائع ہونے والے اپنے تحقیقی مقالے میں ماہر نفسیات ڈاکٹر مشتاق مگروب کا کہنا ہے کہ 'اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے پندرہ سالوں میں کشمیر میں شدید افسردگی، تناؤ اور پی ٹی ایس ڈی کے مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
ہماری کار پلوامہ سے واپس پر دارالحکومت سری نگر کی طرف مڑ چکی ہے۔ یہاں انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (ایمہانس) سے وابستہ ایک سینیئر ماہر نفسیات نے بی بی سی کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ تحقیقی مقالوں میں موجود تمام حقائق درست ہیں۔
وہ کہتے ہیں: 'جب ہم نے سنہ 1990 میں ذہنی صحت کا یہ مرکز شروع کیا تھا اس وقت سے ہر سال یہاں صرف 2000 مریض آتے ہیں۔ آج ہمارے سرکاری مرکز میں ایک لاکھ مریض آ رہے ہیں اور علاج کے لیے اندراج کر رہے ہیں۔ میں ان ایک لاکھ افراد میں محکمہ چائلڈ سائیکالوجی کے مریضوں اور منشیات یا منشیات کے استعمال کے مریضوں کو شامل نہیں کررہا ہوں پھر بھی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے۔
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد نازک صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 'ٹریفک اور مواصلات کے تمام ذرائع بند کردیئے گئے تھے۔ لیکن جیسے ہی ٹریفک بحال ہوا، مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔ میں اپنی او پی ڈی میں ایک دن میں 250 سے زیادہ مریض دیکھ رہا ہوں۔ یہ بہت بڑا اضافہ ہے۔ 370 کے خاتمے کے چند ہی دنوں بعد میں نے دو ایسے مریضوں کا علاج کیا جنہوں نے صدمے، الجھنوں اور خوف میں مبتلا ہونے کی وجہ سے خودکشی کی کو شش کی۔ ایک نوجوان عورت ہے اور ایک کالج کی طالبہ ہے۔ ان دو مریضوں کو براہ راست اثر 370 کے خاتمے سے ہوا تھا۔
سری نگر کے ایمہانس میں اپنا علاج کروانے کے لیے پوری وادی سے لوگ آتے ہیں۔ تعداد میں اضافے کے متعلق ڈاکٹر کہتے ہیں: 'آج کشمیر میں ہم بہت سارے مریضوں (جیسے نیند کی گولیوں) کو نفسیاتی دوائیں دے رہے ہیں۔'







No comments:
Post a Comment
Yahoo News, Today's News, Google News, Trend News and News of the World Now on a website called Current Trend News. if you have any information then contact me.