#CoronaVirus: عالمی ادارہ صحت کی جانب سے چین کے اقدامات کی تعریف
عالمی ادارہ صحت نے چین کے ان اقدامات کی تعریف کی ہے جن کی مدد سے مہلک کورونا وائرس کو وسیع تر عالمی بحران بننے سے روکا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانم نے کہا ہے کہ چین نے اس وائرس کے مرکز، ووہان، میں جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کا ایک اچھا طریقہ ہیں۔
یہ تعریف ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چین میں حکام پر اس وجہ سے تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو ابتدائی سطح اچھے انداز میں کنٹرول نہ کر سکے۔
صرف منگل کے روز چین میں کورونا وائرس کے لگ بھگ چار ہزار نئے تصدیق شدہ کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔ اس وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب بڑھ کر 490 ہو چکی ہے۔ صرف منگل کے روز وائرس سے متاثرہ 65 افراد مزید ہلاک ہوئے ہیں۔
جنیوا میں ٹیکنیکل بریفنگ میں بات کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت امید کی ایک نئی کرن پھوٹی ہے۔ ’آئیے اس موقع کو اس وائرس کے مزید پھیلاؤ اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘
چین کی جانب سے لیے گئے سخت اقدامات کی بدولت چین کے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان میں ہزاروں شہری لاک ڈاؤن کی کیفیت سے گزر رہے اور اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ان پر کئی طرح کی قدغنیں عائد کی گئی ہیں۔
اس سے قبل عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا تھا کہ چین میں پھیلنے والا تباہ کن کورونا وائرس کو ابھی تک عالمی وبا قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے گلوبل وبائی امراض سے بچاؤ کے مرکز کے سربراہ سلوئی برائینڈ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس چین کے صوبے ہوبائی میں تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال ’عالمی وبا‘ کے زمرے میں نہیں آتی۔
ڈبلیو ایچ او نے بے بنیاد افواہوں کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب کوئی وبا پھیلتی ہے تو اس وبا کے ساتھ ’اطلاعات کی وبا‘ پھیلنے لگتی ہے جسے ہم ’انفوڈیمک ‘ کہتے ہیں اور اسے روکنے کی ضرورت ہے۔
منگل کو چین کی کیمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ حالیہ مہلک کورنا وائرس کے نام سے پہچانی جانے والی وبائی بیماری سے نمٹنے کے لیے حکومت کا جو رد عمل سامنے آیا تھا اس میں ’کوتاہیاں اور نقائص‘ تھے۔
ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کیمونیسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کی ایک سٹینڈنگ کمیٹی نے ان کوتاہیوں کو تسلیم کیا ہو۔ اسی کمیٹی نے چین کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
اسی کمیٹی نے شہروں میں غیر قانونی طور پر بننے والی جنگلی جانوروں کی خرید و فروخت کی منڈیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس ایسی ہی منڈیوں سے نکلا ہے۔
پولٹ بیورو کی کمیٹی کے بیان کے مطابق ’ہمیں اپنی کوتاہیوں اور نقائص کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور فوری نوعیت کے خطرناک معاملات سے ہنگامی بنیادوں پر نبردآزما ہونے کے لیے اپنی قابلیت کو بڑھانا چاہیے۔
’یہ ضروری ہے کہ مارکیٹوں کی نگرانی کے نظامِ کار کو موثر بنایا جائے، غیر قانونی جنگلی حیات کی مارکیٹوں پر سختی کے ساتھ پابندی نافذ کی جائے اور ان میں تجارت کو ختم کیا جائے۔‘
حکومت کی جانب سے اس وبا کے پھیلنے کے آغاز میں کیے گئے اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
حکام اور سرکاری اہلکاروں پر الزامات لگ رہے ہیں کہ انھوں نے اس وبا کے شروع کے دنوں میں اس کی سنگینی کو اصل سے کم بیان کرنے کی کوشش کی اور بعض واقعات میں تو خبر ہی کو چھپائے رکھنے کی کوشش کی۔
ووہان کے ایک ڈاکٹر جس نے گزشتہ برس اپنے ایک ساتھی کو اس وبا کے پھیلنے کے بارے میں خبردار کرنے کی کوشش کی تھی اس پر جھوٹی رائے دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اُسے پولیس نے تنبیہ کی تھی کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ سے باز رہے۔
اس برس کے آغاز میں حکومت نے ہوبائی صوبے کا مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس اس خطے سے پھیلا ہے۔
چین میں اس صوبے کے قریبی علاقے بھی اس وائرس کے اثرات کو براہ راست محسوس کر رہے ہیں۔
منگل ہی کو ہانگ کانگ نے کورونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل نے کہا ہے کہ انتالیس برس کا ایک مرد جس میں اس بیماری کی علامتیں دیکھی گئیں تھیں، 21 جنوری کو ووہان گیا تھا۔


No comments:
Post a Comment
Yahoo News, Today's News, Google News, Trend News and News of the World Now on a website called Current Trend News. if you have any information then contact me.